نئی دہلی:12/اپریل(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا ) بجٹ سیشن کو انتہائی اہم، تعمیری اور ممبران پارلیمنٹ کی ساکھ کے عین مطابق قرار دیتے ہوئے لوک سبھا اسپیکر سمترا مہاجن نے آج کہا کہ سیشن کے دوران عام بجٹ پاس ہونے کے ساتھ جی ایس ٹی سے منسلک بل سمیت 23 بل منظور ہوئے اور 29 اجلاسوں میں قریب 177 گھنٹے تک کاروائی جاری رہا۔لوک سبھا اسپیکر نے اس کے ساتھ ہی آج بجٹ اجلاس کو غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کرنے کا اعلان کیا۔سمترا نے کہا کہ اس سیشن کے دوران کل 29اجلاس ہوئے جو 176 گھنٹے اور 39 منٹ تک جاری رہے۔ اس میں سے 7 میٹنگیں پہلے حصہ میں اور 22 میٹنگیں دوسرے حصے میں ہوئی۔ اس سیشن کے دوران 24 سرکاری بل دوبارہ پیش کئے گئے اور مجموعی طور 23 بل منظور کئے گئے۔بجٹ سیشن کے پہلے حصہ کا آغاز صدر کی طرف سے 31 جنوری 2017 کو مرکزی ہال میں دونوں جلسوں کے ارکان سے خطاب کے ساتھ ہوا۔ ایک تاریخی قدم کے طور پر سال 2017.18 کا مرکزی بجٹ رہا۔ فروری 2017 کو عام اور ریل دونوں بجٹ کو ایک ساتھ ملا کر پیش کیا گیا۔
سمترا مہاجن نے کہا کہ صدر کے خطاب پر شکریہ تجویز پر 10 گھنٹے 38 منٹ تک بات چیت ہوئی اور 7 مارچ کو اس تجویز کو منظور کیا گیا۔ 2017.18 کے مرکزی بجٹ پر بحث 8 اور 9 فروری کو 9 گھنٹے 58 منٹ تک جاری رہی۔ 9 فروری 2017 مختلف وزارتوں اور محکموں کے گرانٹ کے مطالبات پر غور کیاگیا۔ دوسرے حصے میں ریلوے، زراعت اور کسان بہبود، حفاظت، داخلہ وزارتوں کے مطالبات پر 28 گھنٹے سے زیادہ وقت تک بات چیت کے بعد اس کومنظورکیاگیا۔
سیشن کے دوران 2016.17 کے لئے گرانٹ مطالبات(ریلوے) اور سال 2013.14 کے لئے اضافی امداد کے مطالبات(ریلوے) اور متعلقہ ونیوجن بل منظور کئے گئے۔صدر نے کہاکہ اس اجلاس میں دخل اندازی کی وجہ سے 8 گھنٹے 12 منٹ کا وقت بیکار ہوا اورپارلیمنٹ نے 28 گھنٹے 40 منٹ دیر تک بیٹھ کر سرکاری کام کیا۔ یہ انتہائی قابل قدر اور تعمیری سیشن رہا جو ہماری ساکھ کے لئے مناسب ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانون سازی کے علاقے میں ایک اہم کامیابی جی ایس ٹی سے متعلق چار بل کا منظور ہونا رہی۔